تاثیر برق حسن جو ان کے سخن میں تھی
Toggle stanza 1تاثیر برق حسن جو ان کے سخن میں تھی
11
تاثیر برق حسن جو ان کے سخن میں تھی
اک لرزش خفی مرے سارے بدن میں تھی
22
واں سے نکل کے پھر نہ فراغت ہوئی نصیب
آسودگی کی جان تری انجمن میں تھی
33
اک رنگ التفات بھی اس بے رخی میں تھا
اک سادگی بھی اس نگہ سحر فن میں تھی
44
محتاج بوئے عطر نہ تھا جسم خوب یار
خوشبوئے دلبری تھی جو اس پیرہن میں تھی
55
کچھ دل ہی بجھ گیا ہے مرا ورنہ آج کل
کیفیت بہار کی شدت چمن میں تھی
66
معلوم ہو گئی مرے دل کو راہ شوق
وہ بات پیار کی جو ہنوز اس دہن میں تھی
77
غربت کی صبح میں بھی نہیں ہے وہ روشنی
جو روشنی کہ شام سواد وطن میں تھی
88
عیش گداز دل بھی غم عاشقی میں تھا
اک راحت لطیف بھی ضمن محن میں تھی
99
اچھا ہوا کہ خاطر حسرتؔ سے ہٹ گئی
ہیبت سی اک جو خطرۂ دار و رسن میں تھی
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

