تاثیر برق حسن جو ان کے سخن میں تھی

Toggle stanza 1
تاثیر برق حسن جو ان کے سخن میں تھی
1

تاثیر برق حسن جو ان کے سخن میں تھی

اک لرزش خفی مرے سارے بدن میں تھی

2

واں سے نکل کے پھر نہ فراغت ہوئی نصیب

آسودگی کی جان تری انجمن میں تھی

3

اک رنگ التفات بھی اس بے رخی میں تھا

اک سادگی بھی اس نگہ سحر فن میں تھی

4

محتاج بوئے عطر نہ تھا جسم خوب یار

خوشبوئے دلبری تھی جو اس پیرہن میں تھی

5

کچھ دل ہی بجھ گیا ہے مرا ورنہ آج کل

کیفیت بہار کی شدت چمن میں تھی

6

معلوم ہو گئی مرے دل کو راہ شوق

وہ بات پیار کی جو ہنوز اس دہن میں تھی

7

غربت کی صبح میں بھی نہیں ہے وہ روشنی

جو روشنی کہ شام سواد وطن میں تھی

8

عیش گداز دل بھی غم عاشقی میں تھا

اک راحت لطیف بھی ضمن محن میں تھی

9

اچھا ہوا کہ خاطر حسرتؔ سے ہٹ گئی

ہیبت سی اک جو خطرۂ دار و رسن میں تھی

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…