حائل تھی بیچ میں جو رضائی تمام شب
Toggle stanza 1حائل تھی بیچ میں جو رضائی تمام شب
حائل تھی بیچ میں جو رضائی تمام شب
اس غم سے ہم کو نیند نہ آئی تمام شب
کی یاس سے ہوس نے لڑائی تمام شب
تم نے تو خوب راہ دکھائی تمام شب
پھر بھی تو ختم ہو نہ سکی آرزو کی بات
ہر چند ہم نے ان کو سنائی تمام شب
بے باک ملتے ہی جو ہوئے ہم تو شرم سے
آنکھ اس پری نے پھر نہ ملائی تمام شب
دل خوب جانتا ہے کہ تم کس خیال سے
کرتے رہے عدو کی برائی تمام شب
پھر شام ہی سے کیوں وہ چلے تھے چھڑا کے ہاتھ
دکھتی رہی جو ان کی کلائی تمام شب
حسرتؔ سے کچھ وہ آتے ہی ایسے ہوئے خفا
پھر ہو سکی نہ ان سے صفائی تمام شب
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
کیا کیا اجل نے جان چرائی تمام شب
کوئی بھی آرزو نہ بر آئی تمام شب
اسماعیل میرٹھیغزلیاتکیا کیا اجل نے جان چرائی تمام شب
تھا غیر کا جو رنجِ جدائی تمام شب
نیند ان کو میرے ساتھ نہ آئی تمام شب
مصطفیٰ خان شیفتہغزلیاتتھا غیر کا جو رنجِ جدائی تمام شب
تھی وصل میں بھی فکر جدائی تمام شب
وہ آئے تو بھی نیند نہ آئی تمام شب
مومن خان مومنغزلیاتتھی وصل میں بھی فکر جدائی تمام شب
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

