حائل تھی بیچ میں جو رضائی تمام شب

Toggle stanza 1
حائل تھی بیچ میں جو رضائی تمام شب
1

حائل تھی بیچ میں جو رضائی تمام شب

اس غم سے ہم کو نیند نہ آئی تمام شب

2

کی یاس سے ہوس نے لڑائی تمام شب

تم نے تو خوب راہ دکھائی تمام شب

3

پھر بھی تو ختم ہو نہ سکی آرزو کی بات

ہر چند ہم نے ان کو سنائی تمام شب

4

بے باک ملتے ہی جو ہوئے ہم تو شرم سے

آنکھ اس پری نے پھر نہ ملائی تمام شب

5

دل خوب جانتا ہے کہ تم کس خیال سے

کرتے رہے عدو کی برائی تمام شب

6

پھر شام ہی سے کیوں وہ چلے تھے چھڑا کے ہاتھ

دکھتی رہی جو ان کی کلائی تمام شب

7

حسرتؔ سے کچھ وہ آتے ہی ایسے ہوئے خفا

پھر ہو سکی نہ ان سے صفائی تمام شب

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…