چاہت مری چاہت ہی نہیں آپ کے نزدیک
شاعر: حسرتؔ موہانی
Toggle stanza 1چاہت مری چاہت ہی نہیں آپ کے نزدیک
11
چاہت مری چاہت ہی نہیں آپ کے نزدیک
کچھ میری حقیقت ہی نہیں آپ کے نزدیک
22
کچھ قدر تو کرتے مرے اظہار وفا کی
شاید یہ محبت ہی نہیں آپ کے نزدیک
33
یوں غیر سے بے باک اشارے سر محفل
کیا یہ مری ذلت ہی نہیں آپ کے نزدیک
44
عشاق پہ کچھ حد بھی مقرر ہے ستم کی
یا اس کی نہایت ہی نہیں آپ کے نزدیک
55
اگلی سی نہ راتیں ہیں نہ گھاتیں ہیں نہ باتیں
کیا اب میں وہ حسرتؔ ہی نہیں آپ کے نزدیک
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

