حق شہ کی بقا سے خلق کو شاد کرے

شاعر: مرزا غالبؔ

قافیہ: اد

ردیف: کرے

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
حق شہ کی بقا سے خلق کو شاد کرے
1

حق شہ کی بقا سے خلق کو شاد کرے

تا شاہ شیوعِ دانش و داد کرے

2

یہ جو دی گئی ہے رشتۂ عمر میں گانٹھ

ہے صِفر کہ افزائشِ اعداد کرے

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…