خط منظوم بنام علائی

شاعر: مرزا غالبؔ

وزن: فعولن فعولن فعولن فَعَل (متقارب مثمن محذوف)

قافیہ: ائیں

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: قطعه

Toggle stanza 1
خوشی تو ہے آنے کی برسات کے
1

خوشی تو ہے آنے کی برسات کے

پئیں بادۂ ناب اور آم کھائیں

2

سر آغازِ موسم میں اندھے ہیں ہم

کہ دِلّی کو چھوڑیں، لوہارو کو جائیں

3

سِوا ناج کے جو ہے مطلوبِ جاں

نہ واں آم پائیں، نہ انگور پائیں

4

ہوا حکم باورچیوں کو، کہ ہاں

ابھی جا کے پوچھو کہ کل کیا پکائیں

5

وہ کھٹّے کہاں پائیں اِملی کے پھول

وہ کڑوے کریلے کہاں سے منگائیں

6

فقط گوشت، سو بھیڑ کا ریشہ دار

کہو اس کو کیا کھا کے ہم حظ اُٹھائیں

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…