گل کھلے غنچے چٹکنے لگے اور صبح ہوئی

Toggle stanza 1
گل کھلے غنچے چٹکنے لگے اور صبح ہوئی
1

گل کھلے غنچے چٹکنے لگے اور صبح ہوئی

سرخوشِ خواب ہے وہ نرگسِ مخمور ہنوز

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…