شب کہ ذوقِ گفتگو سے تیرے، دل بے تاب تھا

شاعر: مرزا غالبؔ

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مثمن محذوف)

قافیہ: اب

ردیف: تھا

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 2

صنف: غزل

Toggle stanza 1
شب کہ ذوقِ گفتگو سے تیرے، دل بے تاب تھا
1

شب کہ ذوقِ گفتگو سے تیرے، دل بے تاب تھا

شوخیِ وحشت سے افسانہ فسونِ خواب تھا

2

واں ہجومِ نغمہ ہائے سازِ عشرت تھا اسدؔ

ناخنِ غم یاں سرِ تارِ نفس مضراب تھا

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…