اسدؔ ہم وہ جنوں جولاں گدائے بے سر و پا ہیں

Toggle stanza 1
اسدؔ ہم وہ جنوں جولاں گدائے بے سر و پا ہیں
1

اسدؔ ہم وہ جنوں جولاں گدائے بے سر و پا ہیں

کہ ہے سر پنجۂ مژگانِ آہو پشت خار اپنا

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…