یہ ہم جو ہجر میں دیوار و در کو دیکھتے ہیں

Toggle stanza 1
یہ ہم جو ہجر میں دیوار و در کو دیکھتے ہیں
1

یہ ہم جو ہجر میں دیوار و در کو دیکھتے ہیں

کبھی صبا کو کبھی نامہ بر کو دیکھتے ہیں

2

وہ آئیں گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے

کبھی ہم ان کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں

3

نظر لگے نہ کہیں اُس کے دست و بازو کو

یہ لوگ کیوں مرے زخمِ جگر کو دیکھتے ہیں

4

ترے جواہرِ طرفِ کُلہ کو کیا دیکھیں

ہم اوجِ طالعِ لعل و گہر کو دیکھتے ہیں

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…