مت مردُمکِ دیدہ میں سمجھو یہ نگاہیں
شاعر: مرزا غالبؔ
صنف: تک بیت
Toggle stanza 1مت مردُمکِ دیدہ میں سمجھو یہ نگاہیں
11
مت مردُمکِ دیدہ میں سمجھو یہ نگاہیں
ہیں جمع سُویدائے دلِ چشم میں آہیں
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

