مجھ کو دیارِ غیر میں مارا، وطن سے دور

Toggle stanza 1
مجھ کو دیارِ غیر میں مارا، وطن سے دور
1

مجھ کو دیارِ غیر میں مارا، وطن سے دور

رکھ لی مرے خدا نے مری بےکسی کی شرم

2

وہ حلقۂ ہائے زلف، کمیں میں ہیں اے خدا

رکھ لیجو میرے دعوۂ وارستگی کی شرم

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…