مند گئیں کھولتے ہی کھولتے آنکھیں غالبؔ

Toggle stanza 1
مند گئیں کھولتے ہی کھولتے آنکھیں غالبؔ
1

مند گئیں کھولتے ہی کھولتے آنکھیں غالبؔ

یار لائے مری بالیں پہ اسے، پر کس وقت

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…