کب فقیروں کو رسائی بُتِ مے خوار کے پاس
Toggle stanza 1کب فقیروں کو رسائی بُتِ مے خوار کے پاس
11
کب فقیروں کو رسائی بُتِ مے خوار کے پاس
تونبے بو دیجیے مے خانے کی دیوار کے پاس
22
مُژدہ، اے ذَوقِ اسیری! کہ نظر آتا ہے
دامِ خالی، قفَسِ مُرغِ گرفتار کے پاس
33
جگرِ تشنۂ آزار، تسلی نہ ہوا
جُوئے خُوں ہم نے بہائی بُنِ ہر خار کے پاس
44
مُند گئیں کھولتے ہی کھولتے آنکھیں ہَے ہَے!
خُوب وقت آئے تم اِس عاشقِ بیمار کے پاس
55
مَیں بھی رُک رُک کے نہ مرتا، جو زباں کے بدلے
دشنہ اِک تیز سا ہوتا مِرے غمخوار کے پاس
66
دَہَنِ شیر میں جا بیٹھیے، لیکن اے دل
نہ کھڑے ہو جیے خُوبانِ دل آزار کے پاس
77
دیکھ کر تجھ کو، چمن بسکہ نُمو کرتا ہے
خُود بخود پہنچے ہے گُل گوشۂ دستار کے پاس
88
مر گیا پھوڑ کے سر غالبؔ وحشی، ہَے ہَے!
بیٹھنا اُس کا وہ، آ کر، تری دِیوار کے پاس
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

