کب فقیروں کو رسائی بُتِ مے خوار کے پاس

Toggle stanza 1
کب فقیروں کو رسائی بُتِ مے خوار کے پاس
1

کب فقیروں کو رسائی بُتِ مے خوار کے پاس

تونبے بو دیجیے مے خانے کی دیوار کے پاس

2

مُژدہ، اے ذَوقِ اسیری! کہ نظر آتا ہے

دامِ خالی، قفَسِ مُرغِ گرفتار کے پاس

3

جگرِ تشنۂ آزار، تسلی نہ ہوا

جُوئے خُوں ہم نے بہائی بُنِ ہر خار کے پاس

4

مُند گئیں کھولتے ہی کھولتے آنکھیں ہَے ہَے!

خُوب وقت آئے تم اِس عاشقِ بیمار کے پاس

5

مَیں بھی رُک رُک کے نہ مرتا، جو زباں کے بدلے

دشنہ اِک تیز سا ہوتا مِرے غمخوار کے پاس

6

دَہَنِ شیر میں جا بیٹھیے، لیکن اے دل

نہ کھڑے ہو جیے خُوبانِ دل آزار کے پاس

7

دیکھ کر تجھ کو، چمن بسکہ نُمو کرتا ہے

خُود بخود پہنچے ہے گُل گوشۂ دستار کے پاس

8

مر گیا پھوڑ کے سر غالبؔ وحشی، ہَے ہَے!

بیٹھنا اُس کا وہ، آ کر، تری دِیوار کے پاس

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…