رفتارِ عمر قطعِ رہ اضطراب ہے

Toggle stanza 1
رفتارِ عمر قطعِ رہ اضطراب ہے
1

رفتارِ عمر قطعِ رہ اضطراب ہے

اس سال کے حساب کو برق آفتاب ہے

2

مینائے مے ہے سروِ نشاطِ بہار سے

بالِ تَدَرو جلوۂ موجِ شراب ہے

3

زخمی ہوا ہے پاشنہ پائے ثبات کا

نے بھاگنے کی گوں، نہ اقامت کی تاب ہے

4

جادادِ بادہ نوشیِ رنداں ہے شش جہت

غافل گماں کرے ہے کہ گیتی خراب ہے

5

نظّارہ کیا حریف ہو اس برقِ حسن کا

جوشِ بہار جلوے کو جس کے نقاب ہے

6

میں نامراد دل کی تسلّی کو کیا کروں

مانا کہ تیری رخ سے نگہ کامیاب ہے

7

گزرا اسدؔ مسرّتِ پیغامِ یار سے

قاصد پہ مجھ کو رشکِ سوال و جواب ہے

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…