کس کی برقِ شوخیِ رفتار کا دلدادہ ہے

Toggle stanza 1
کس کی برقِ شوخیِ رفتار کا دلدادہ ہے
1

کس کی برقِ شوخیِ رفتار کا دلدادہ ہے

ذرّہ ذرّہ اس جہاں کا اضطراب آمادہ ہے

2

ہے غرورِ سرکشی صورت نمائے عجز بھی

منقلب ہو کر بسانِ نقشِ پا افتادہ ہے

3

خانہ ویراں سازیِ عشقِ جفا پیشہ نہ پوچھ

نا مرادوں کا خطِ تقدیر تک بھی سادہ ہے

4

خود نشاط و سرخوشی ہے آمدِ فصلِ بہار

آج ہر سیلِ رواں عالم میں موجِ بادہ ہے

5

زندگانی رہروِ راہِ فنا ہے اے اسدؔ

ہر نفس ہستی سے تا ملکِ عدم اک جادہ ہے

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…