پھر کچھ اک دل کو بیقراری ہے

شاعر: مرزا غالبؔ

وزن: فاعلاتن مفاعلن فِعْلن (خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع)

قافیہ: اری

ردیف: ہے

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: غزل

بند 1
Toggle stanza 1
پھر کچھ اک دل کو بیقراری ہے
1

پھر کچھ اک دل کو بیقراری ہے

سینہ جویائے زخمِ کاری ہے

2

پھِر جگر کھودنے لگا ناخن

آمدِ فصلِ لالہ کاری ہے

3

قبلۂ مقصدِ نگاہِ نیاز

پھر وہی پردۂ عماری ہے

4

چشم دلّالِ جنسِ رسوائی

دل خریدارِ ذوقِ خواری ہے

5

وُہ ہی صد رنگ نالہ فرسائی

وُہ ہی صد گونہ اشک باری ہے

6

دل ہوائے خرامِ ناز سے پھر

محشرستانِ بیقراری ہے

7

جلوہ پھر عرضِ ناز کرتا ہے

روزِ بازارِ جاں سپاری ہے

8

پھر اسی بے وفا پہ مرتے ہیں

پھر وہی زندگی ہماری ہے

بند 2
ق
Toggle stanza 2
پھر کھلا ہے درِ عدالتِ ناز
9

پھر کھلا ہے درِ عدالتِ ناز

گرم بازارِ فوجداری ہے

10

ہو رہا ہے جہان میں اندھیر

زلف کی پھر سرشتہ داری ہے

11

پھر دیا پارۂ جگر نے سوال

ایک فریاد و آہ و زاری ہے

12

پھر ہوئے ہیں گواہِ عشق طلب

اشک باری کا حکم جاری ہے

13

دل و مژگاں کا جو مقدمہ تھا

آج پھر اس کی روبکاری ہے

14

بے خودی بے سبب نہیں غالبؔ

کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…