کوئی امّید بر نہیں آتی
شاعر: مرزا غالبؔ
Toggle stanza 1کوئی امّید بر نہیں آتی
11
کوئی امّید بر نہیں آتی
کوئی صورت نظر نہیں آتی
22
موت کا ایک دن معین ہے
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی؟
33
آگے آتی تھی حال دل پہ ہنسی
اب کسی بات پر نہیں آتی
44
جانتا ہوں ثوابِ طاعت و زہد
پر طبیعت ادھر نہیں آتی
55
ہے کچھ ایسی ہی بات جو چپ ہوں
ورنہ کیا بات کر نہیں آتی
66
کیوں نہ چیخوں کہ یاد کرتے ہیں
میری آواز گر نہیں آتی
77
داغِ دل گر نظر نہیں آتا
بو بھی اے چارہ گر نہیں آتی
88
ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی
کچھ ہماری خبر نہیں آتی
99
مرتے ہیں آرزو میں مرنے کی
موت آتی ہے پر نہیں آتی
1010
کعبے کس منہ سے جاؤ گے غالبؔ
شرم تم کو مگر نہیں آتی
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

