باب
Literature and the Fine Arts
ادبیات، فنونِ لطیفہ
سرود و شعر و سیاست، کتاب و دِین و ہُنر
جہانِ تازہ کی افکارِ تازہ سے ہے نمود
زُجاج گر کی دُکاں شاعری و مُلّائی
ہے گِلہ مجھ کو تِری لذّتِ پیدائی کا
مری نگاہ کمالِ ہُنر کو کیا دیکھے
عشق اب پیرویِ عقلِ خدا داد کرے
بہار و قافلۂ لالہ ہائے صحرائی
ہے مرے سِینۂ بے نُور میں اب کیا باقی
تری خودی سے ہے روشن ترا حریمِ وجود
سُورج نے دیا اپنی شعاعوں کو یہ پیغام
مقابلہ تو زمانے کا خوب کرتا ہُوں
یہ کائنات چھُپاتی نہیں ضمیر اپنا
مہر و مہ و مشتری، چند نفس کا فروغ
اے کہ ہے زیرِ فلک مثلِ شرر تیری نمود
آیا کہاں سے نالۂ نَے میں سرورِ مے
انجم کی فضا تک نہ ہُوئی میری رسائی
اس دشتِ جگر تاب کی خاموش فضا میں
ہے یہ فِردوسِ نظر اہلِ ہُنَر کی تعمیر
فِردوس میں رومیؔ سے یہ کہتا تھا سنائیؔ
اے اہلِ نظر ذوقِ نظر خُوب ہے لیکن
شاید تو سمجھتی تھی وطن دُور ہے میرا
وہ صاحبِ ’تُحفۃ العراقَین‘
غلَط نِگر ہے تری چشمِ نیم باز اب تک
دیکھے تُو زمانے کو اگر اپنی نظر سے
ہے حقیقت یا مری چشمِ غلَط بیں کا فساد
مرے لیے ہے فقط زورِ حیدری کافی
کس درجہ یہاں عام ہُوئی مرگِ تخیّل
کھُل تو جاتا ہے مُغَنّی کے بم و زیر سے دل
نہ میرے ذکر میں ہے صُوفیوں کا سوز و سُرور
یہ آبجوُ کی روانی، یہ ہمکناریِ خاک
مشرق کے نیَستاں میں ہے محتاجِ نفَس نَے
ہے شعرِ عجَم گرچہ طرب ناک و دل آویز
عشق و مستی کا جنازہ ہے تخیّل ان کا
اُس کی نفرت بھی عمیق، اُس کی محبّت بھی عمیق
زندہ دل سے نہیں پوشیدہ ضمیرِ تقدیر
ہر چند کہ ایجادِ معانی ہے خدا داد
وہ نغمہ سردیِ خُونِ غزل سرا کی دلیل
خودی بلند تھی اُس خُوں گرفتہ چینی کی
مَیں شعر کے اَسرار سے محرم نہیں لیکن
شعر سے روشن ہے جانِ جبرئیل و اہرمن
طریقِ اہلِ دُنیا ہے گِلہ شکوَہ زمانے کا
چھوڑ یورپ کے لیے رقصِ بدن کے خم و پیچ