روزی مل جائے مال و دولت نہ سہی

شاعر: اکبرؔ الہ آبادی

وزن: رباعی

قافیہ: ت

ردیف: نہ سہی

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
روزی مل جائے مال و دولت نہ سہی
1

روزی مل جائے مال و دولت نہ سہی

راحت ہو نصیب شان و شوکت نہ سہی

2

گھر بار میں خوش رہیں عزیزوں کے ساتھ

دربار میں باہمی رقابت نہ سہی

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…