الفت نہ ہو شیخ کی تو عزت ہی سہی
Toggle stanza 1الفت نہ ہو شیخ کی تو عزت ہی سہی
11
الفت نہ ہو شیخ کی تو عزت ہی سہی
مرشد نہ بناؤ ان کو دعوت ہی سہی
22
بگڑا ہے جو دل زباں ہی کو روکو
رونا جو نہ آئے غم کی صورت ہی سہی
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

