الفت نہ ہو شیخ کی تو عزت ہی سہی

شاعر: اکبرؔ الہ آبادی

وزن: رباعی

قافیہ: ت

ردیف: ہی سہی

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
الفت نہ ہو شیخ کی تو عزت ہی سہی
1

الفت نہ ہو شیخ کی تو عزت ہی سہی

مرشد نہ بناؤ ان کو دعوت ہی سہی

2

بگڑا ہے جو دل زباں ہی کو روکو

رونا جو نہ آئے غم کی صورت ہی سہی

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…