ہر ایک سے سنا نیا فسانہ ہم نے
Toggle stanza 1ہر ایک سے سنا نیا فسانہ ہم نے
11
ہر ایک سے سنا نیا فسانہ ہم نے
دیکھا دنیا میں ایک زمانہ ہم نے
22
اول یہ تھا کہ واقفیت پہ تھا ناز
آخر یہ کھلا کہ کچھ نہ جانا ہم نے
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

