افسوس سفید ہو گئے بال ترے
Toggle stanza 1افسوس سفید ہو گئے بال ترے
11
افسوس سفید ہو گئے بال ترے
لیکن ہیں سیاہ اب بھی اعمال ترے
22
تو زلف بتاں بنا ہوا ہے اب تک
دنیا پہ ہنوز پڑتے ہیں جال ترے
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

