فنا کے سامنے ہم کیا ہماری ہستی کیا
شاعر: اکبرؔ الہ آبادی
Toggle stanza 1فنا کے سامنے ہم کیا ہماری ہستی کیا
11
فنا کے سامنے ہم کیا ہماری ہستی کیا
برائے نام مگر اک نشان پا ہی لیا
22
ہوا جو ہم نفس قطرہ بن گئی دم بھر
حباب نے بھی خودی کا مزا اٹھا ہی لیا
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

