فنا کے سامنے ہم کیا ہماری ہستی کیا

Toggle stanza 1
فنا کے سامنے ہم کیا ہماری ہستی کیا
1

فنا کے سامنے ہم کیا ہماری ہستی کیا

برائے نام مگر اک نشان پا ہی لیا

2

ہوا جو ہم نفس قطرہ بن گئی دم بھر

حباب نے بھی خودی کا مزا اٹھا ہی لیا

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…