عشاق کو بھی مال تجارت سمجھ لیا

Toggle stanza 1
عشاق کو بھی مال تجارت سمجھ لیا
1

عشاق کو بھی مال تجارت سمجھ لیا

اس قہر کو ملاحظہ للہ کیجیے

2

بھرتے ہیں میری آہ کو فونو گراف میں

کہتے ہیں فیس لیجئے اور آہ کیجیے

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…