دنیا سے میل کی ضرورت ہی نہیں

Toggle stanza 1
دنیا سے میل کی ضرورت ہی نہیں
1

دنیا سے میل کی ضرورت ہی نہیں

مجھ کو اس کھیل کی ضرورت ہی نہیں

2

درپیش ہے منزل عدم اے اکبرؔ

اس راہ میں ریل کی ضرورت ہی نہیں

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…