دنیا سے میل کی ضرورت ہی نہیں
Toggle stanza 1دنیا سے میل کی ضرورت ہی نہیں
11
دنیا سے میل کی ضرورت ہی نہیں
مجھ کو اس کھیل کی ضرورت ہی نہیں
22
درپیش ہے منزل عدم اے اکبرؔ
اس راہ میں ریل کی ضرورت ہی نہیں
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

