جینے والوں کی ترنگیں ہیں فقط پیش نظر
شاعر: اکبرؔ الہ آبادی
صنف: قطعه
Toggle stanza 1جینے والوں کی ترنگیں ہیں فقط پیش نظر
11
جینے والوں کی ترنگیں ہیں فقط پیش نظر
مرنے والوں کے مصائب کی بہت کم ہے خبر
22
یہی باعث ہے کہ غفلت میں پھنسی ہے دنیا
لب خنداں کی ہے کثرت عوض دیدۂ تر
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

