انہیں شوق عبادت بھی ہے اور گانے کی عادت بھی
شاعر: اکبرؔ الہ آبادی
Toggle stanza 1انہیں شوق عبادت بھی ہے اور گانے کی عادت بھی
11
انہیں شوق عبادت بھی ہے اور گانے کی عادت بھی
نکلتی ہیں دعائیں ان کے منہ سے ٹھمریاں ہو کر
22
تعلق عاشق و معشوق کا تو لطف رکھتا تھا
مزے اب وہ کہاں پاتی رہی بی بی میاں ہو کر
33
نہ تھی مطلق توقع بل بنا کر پیش کر دو گے
مری جاں لٹ گیا میں تو تمہارا مہماں ہو کر
44
حقیقت میں میں بلبل ہوں مگر چارے کی خواہش میں
بنا ہوں ممبر کونسل یہاں مٹھو میاں ہو کر
55
نکالا کرتی ہیں گھر سے یہ کہہ کر تو تو مجنوں ہے
ستا رکھا ہے مجھ کو ساس نے لیلی کی ماں ہو کر
66
رقیب سفلہ خو ٹھہرے نہ میری آہ کے آگے
بھگایا مچھروں کو ان کے کمروں سے دھواں ہو کر
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

