بٹھائی جائیں گی پردے میں بیبیاں کب تک

Toggle stanza 1
بٹھائی جائیں گی پردے میں بیبیاں کب تک
1

بٹھائی جائیں گی پردے میں بیبیاں کب تک

بنے رہو گے تم اس ملک میں میاں کب تک

2

حرم سرا کی حفاظت کو تیغ ہی نہ رہی

تو کام دیں گی یہ چلمن کی تیلیاں کب تک

3

میاں سے بی بی ہیں پردہ ہے ان کو فرض مگر

میاں کا علم ہی اٹھا تو پھر میاں کب تک

4

طبیعتوں کا نمو ہے ہوائے مغرب میں

یہ غیرتیں یہ حرارت یہ گرمیاں کب تک

5

عوام باندھ لیں دوہر تو تھرڈ وانٹر میں

سکنڈ و فرسٹ کی ہوں بند کھڑکیاں کب تک

6

جو منہ دکھائی کی رسموں پہ ہے مصر ابلیس

چھپیں گی حضرت حوا کی بیٹیاں کب تک

7

جناب حضرت اکبرؔ ہیں حامئ پردہ

مگر وہ کب تک اور ان کی رباعیاں کب تک

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…