جو ناصح مرے آگے بکنے لگا
Toggle stanza 1جو ناصح مرے آگے بکنے لگا
11
جو ناصح مرے آگے بکنے لگا
میں کیا کرتا منہ اس کا تکنے لگا
22
محبت کا تم سے اثر کیا کہوں
نظر مل گئی دل دھڑکنے لگا
33
بدن چھو گیا آگ سی لگ اٹھی
نظر مل گئی دل دھڑکنے لگا
44
رقیبوں نے پہلو دبایا تو چپ
میں بیٹھا تو ظالم سرکنے لگا
55
جو محفل میں اکبرؔ نے کھولی زباں
گلستاں میں بلبل چہکنے لگا
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

