جو ناصح مرے آگے بکنے لگا

Toggle stanza 1
جو ناصح مرے آگے بکنے لگا
1

جو ناصح مرے آگے بکنے لگا

میں کیا کرتا منہ اس کا تکنے لگا

2

محبت کا تم سے اثر کیا کہوں

نظر مل گئی دل دھڑکنے لگا

3

بدن چھو گیا آگ سی لگ اٹھی

نظر مل گئی دل دھڑکنے لگا

4

رقیبوں نے پہلو دبایا تو چپ

میں بیٹھا تو ظالم سرکنے لگا

5

جو محفل میں اکبرؔ نے کھولی زباں

گلستاں میں بلبل چہکنے لگا

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…