تم نے بیمار محبت کو ابھی کیا دیکھا

Toggle stanza 1
تم نے بیمار محبت کو ابھی کیا دیکھا
1

تم نے بیمار محبت کو ابھی کیا دیکھا

جو یہ کہتے ہوئے جاتے ہو کہ دیکھا دیکھا

2

طفل دل کو مرے کیا جانے لگی کس کی نظر

میں نے کمبخت کو دو دن بھی نہ اچھا دیکھا

3

لے گیا تھا طرف گور غریباں دل زار

کیا کہیں تم سے جو کچھ واں کا تماشا دیکھا

4

وہ جو تھے رونق آبادیٔ گلزار جہاں

سر سے پا تک انہیں خاک رہ صحرا دیکھا

5

کل تلک محفل عشرت میں جو تھے صدر نشیں

قبر میں آج انہیں بیکس و تنہا دیکھا

6

بسکہ نیرنگی عالم پہ اسے حیرت تھی

آئینہ خاک سکندر کو سراپا دیکھا

7

سر جمشید کے کاسے میں بھری تھی حسرت

یاس کو معتکف تربت دارا دیکھا

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…