وزن کے تحت کتاب
یہ صفحہ صرف وزنِ مفاعلن فَعِلاتن مفاعلن فِعْلن (مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن) میں آنے والی نظمیں دکھاتا ہے۔
وزنِ مفاعلن فَعِلاتن مفاعلن فِعْلن (مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن) میں علامہ اقبالؔ کی کتاب ضربِ کلیم
نہ دیر میں نہ حرم میں خودی کی بیداری
خودی کا سِرِّ نہاں لَا اِلٰہَ اِلّاَ اللہ
کسے خبر کہ ہزاروں مقام رکھتا ہے
تری نگاہ میں ہے معجزات کی دنیا
وہی ہے بندۂ حُر جس کی ضَرب ہے کاری
کچھ اور چیز ہے شاید تری مسلمانی
بیاں میں نکتۂ توحید آ تو سکتا ہے
لحد میں بھی یہی غیب و حضور رہتا ہے
نظر سپہر پہ رکھتا ہے جو ستارہ شناس
خودی ہو زندہ تو ہے فقر بھی شہنشاہی
کہا پہاڑ کی ندّی نے سنگ ریزے سے
جہانِ تازہ کی افکارِ تازہ سے ہے نمود
زُجاج گر کی دُکاں شاعری و مُلّائی
مری نگاہ کمالِ ہُنر کو کیا دیکھے
بہار و قافلۂ لالہ ہائے صحرائی
یہ کائنات چھُپاتی نہیں ضمیر اپنا
غلَط نِگر ہے تری چشمِ نیم باز اب تک
مرے لیے ہے فقط زورِ حیدری کافی
یہ آبجوُ کی روانی، یہ ہمکناریِ خاک
خودی بلند تھی اُس خُوں گرفتہ چینی کی
ہُوا ہے بندۂ مومن فسونیِ افرنگ
تری حریف ہے یا رب سیاستِ افرنگ
جو بات حق ہو، وہ مجھ سے چھُپی نہیں رہتی