صنف کے تحت کتاب
یہ صفحہ صرف صنفِ مثنوی کے تحت آنے والی نظمیں دکھاتا ہے۔
صنفِ مثنوی میں میر تقی میرؔ کی کتاب مثنویات
ثناے جہاں آفریں ہے محال
یہ موذی کئی ناخبردار فن
صحبتیں جب تھیں تو یہ فن شریف
اب کے نواب رام پور آیا
ضبط کروں میں کب تک آہ اب
خوشا حال اس کا جو معدوم ہے
کہتے ہیں جو غم نداری بز بخر
سنو اے عزیزان ذی ہوش و عقل
دلی سے ہم جو لکھنؤ آئے
ہے جہان کہن تماشاگاہ
اے جھوٹھ آج شہر میں تیرا ہی دور ہے
ہولی کھیلا آصف الدولہ وزیر
میرؔ خطاط یک قلم دیکھے
سگ و گربہ ہیں دو ہمارے ہاں
آؤ ساقی کہ بزم عشرت ہے
آؤ ساقی شراب نوش کریں
چمن سے عنایت کے بادام وار
ہے غبار وادی وحدت جہاں
خدا ایک فرقے میں مانا ہے عشق
آج سے مجھ کو نہیں رنج و نکال
کیا کہوں اب کی کیسی ہے برسات
اک ہے پرخور آشنا بے پیر
کیا لکھوں میرؔ اپنے گھر کا حال
جسم خاکی میں جس طرح جاں ہے
اس چرخ بے مدار کے کیا کیا کروں گلے
اک جو لچر کو رزق کی وسعت سی ہوگئی
سنیو اے اہل سخن بعد از سلام
عشق ہے تازہ کار و تازہ خیال
ہے قابل حمد وہ سرانداز
محبت نے ظلمت سے کاڑھا ہے نور
چلا آصف الدولہ بہر شکار
مکرر ہے نواب کو قصد صید
کئی برس سے ہمارے کنے تھا ایک خروس
کچھ حقیقت نہ پوچھو کیا ہے عشق
دشت سے بستی میں آیا ایک مور
ایک بلی موہنی تھا اس کا نام
پاؤ توفیق ٹک تو سر کو دھنو
تھا کپی کا بچہ اک درویش پاس