رباعی شمارهٔ 3

شاعر: سعدی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: راب

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 3

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
ای چشم تو مست خواب و سرمست شراب!
1
ای چشم تو مست خواب و سرمست شراب!
صاحب‌نظران تشنه و وصل تو سراب
2
مانند تو آدمی در آباد و خراب
باشد که در آیینه، توان دید و در آب

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…