رباعی شمارهٔ 1147
Toggle stanza 1امشب که حریف مشتری و ماهم
11
امشب که حریف مشتری و ماهم
با مهرویان چون شکر همراهم
22
سرمست شراب بزم شاهنشاهم
امشب همه آنست که من میخواهم
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

