رباعی شمارهٔ 1147

شاعر: رومی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: اهم

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
امشب که حریف مشتری و ماهم
1

امشب که حریف مشتری و ماهم

با مه‌رویان چون شکر همراهم

2

سرمست شراب بزم شاهنشاهم

امشب همه آنست که من می‌خواهم

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…