Toggle stanza 1
روی خوب تو مهوش افتاده ست
1

روی خوب تو مهوش افتاده ست

خال مشکین بر او خوش افتاده ست

2

چشم بد دور خال بر رخ تو

چون سپندی بر آتش افتاده ست

3

چهره زرد ما ز سرخی اشک

ورقی بس منقش افتاده ست

4

مشو ای پندگو مشوش ما

حال ما خود مشوش افتاده ست

5

صبر و دل عقل و دین تن و جان سوخت

از تو آتش به هر شش افتاده ست

6

این که صوفی فتاده غش کرده ست

از می لعل بیغش افتاده ست

7

هر که در می فتاد جام کشید

بنده جامی سبوکش افتاده ست

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…