Toggle stanza 1
ای صفوت روح اعظم آیینه تو
1

ای صفوت روح اعظم آیینه تو

وی ظلمت خاک آدم آیینه تو

2

روی دگر است در هر آیینه تو را

ای هژده هزار عالم آیینه تو

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…