شمارهٔ 109
Toggle stanza 1ای صفوت روح اعظم آیینه تو
11
ای صفوت روح اعظم آیینه تو
وی ظلمت خاک آدم آیینه تو
22
روی دگر است در هر آیینه تو را
ای هژده هزار عالم آیینه تو
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

