شمارهٔ 77
Toggle stanza 1در دیده عیان تو بودهای من غافل
11
در دیده عیان تو بودهای من غافل
در سینه نهان تو بودهای من غافل
22
از جمله جهان تو را نشان میجستم
خود جمله جهان تو بودهای من غافل
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

