Toggle stanza 1
عشوه شاهد دنیا طمع انگیز بود
1

عشوه شاهد دنیا طمع انگیز بود

جامی آن به که ازین می نشوی مست طمع

2

لقمه تلخ قناعت ز جهان قوت تو بس

بهر حلوای کسان کفچه مکن دست طمع

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…