شمارهٔ 26
Toggle stanza 1عشوه شاهد دنیا طمع انگیز بود
11
عشوه شاهد دنیا طمع انگیز بود
جامی آن به که ازین می نشوی مست طمع
22
لقمه تلخ قناعت ز جهان قوت تو بس
بهر حلوای کسان کفچه مکن دست طمع
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

