Toggle stanza 1
نام تو که خامشی نمی شاید ازو
1

نام تو که خامشی نمی شاید ازو

بر سینه در فتوح بگشاید ازو

2

تکرار همی کنم به آواز بلند

تا همچو زبان گوش بیاساید ازو

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…