شمارهٔ 111
Toggle stanza 1نام تو که خامشی نمی شاید ازو
11
نام تو که خامشی نمی شاید ازو
بر سینه در فتوح بگشاید ازو
22
تکرار همی کنم به آواز بلند
تا همچو زبان گوش بیاساید ازو
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

