Toggle stanza 1
ای غمت هر لحظه جان ناتوانی سوخته
1

ای غمت هر لحظه جان ناتوانی سوخته

برق عشقت خانه بی خانمانی سوخته

2

این چنین کز هر درونی سوز عشقت شعله زد

عاقبت بینم ازین آتش جهانی سوخته

3

تربت ما را علم هم ز آتش دل به چو ما

با درون آتشین رفتیم و جانی سوخته

4

قصه سوز دل پروانه را از شمع پرس

شرح آن آتش ندارد جز زبانی سوخته

5

سوخت جامی ز آتش عشق آن چنان کز وی نماند

جز کفی خاکستر و چند استخوانی سوخته

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…