رباعی شمارهٔ 34
Toggle stanza 1چشمت که فسون و رنگ میبارد از او
11
چشمت که فسون و رنگ میبارد از او
افسوس که تیر جنگ میبارد از او
22
بس زود ملول گشتی از همنفَسان
آه از دل تو که سنگ میبارد از او
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

