رباعی شمارهٔ 90

Toggle stanza 1
در دل همه خار غم شکستیم دریغ!
1

در دل همه خار غم شکستیم دریغ!

وز دست غم عشق نرستیم دریغ!

2

عمری به امید یار بردیم بسر

با یار دمی خوش ننشستیم دریغ!

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…