رباعی شمارهٔ 90
Toggle stanza 1در دل همه خار غم شکستیم دریغ!
11
در دل همه خار غم شکستیم دریغ!
وز دست غم عشق نرستیم دریغ!
22
عمری به امید یار بردیم بسر
با یار دمی خوش ننشستیم دریغ!
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

