غزل شمارهٔ 2043

Toggle stanza 1
ز خورشید جمالش تا عرق سازد عیان انجم
1

ز خورشید جمالش تا عرق سازد عیان انجم

به‌گردون می‌شود در دیدهٔ حیرت نهان انجم

2

سر زلفش ز دستم رفت اشکم ریخت از مژگان

که چون شب بگذرد ریزد ز چشم آسمان انجم

3

اسیر حلقهٔ بیتابی شوق‌که می‌باشد

که همچون اشک می‌ریزد ز چشم آسمان انجم

4

مگر با نسبت آن گوهر دندان مقابل شد

که می‌گیرد مدام از کهکشان خس در دهان انجم

5

به امیدی‌که مهر طلعتش‌کی جلوه فرماید

چو بیدل منتظر هر شب به چشم خونفشان انجم

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…