بخش 4 - الحكایة و التمثیل
Toggle stanza 1آن وزیری را چو آمد مرگ پیش
11
آن وزیری را چو آمد مرگ پیش
کرد حیران روی سوی قوم خویش
22
گفت دردا و دریغا کز غرض
آخرت با خواجگی کردم عوض
33
زآرزوی این جهان میسوختم
لاجرم آن یک بدین بفروختم
44
میروم امروز جانی سوخته
رفته دنیا و آخرت بفروخته
55
ای دل غافل دمی بیدار شو
چند بد مستی کنی هشیار شو
66
رفتگان اندر نخستین منزلند
منتظر بنشسته و مستعجلند
77
بیش ازین در بند خودشان می مدار
چندشان فرمائی آخر انتظار
آڈیو
اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

