بخش 4 - الحكایة و التمثیل

Toggle stanza 1
آن وزیری را چو آمد مرگ پیش
1

آن وزیری را چو آمد مرگ پیش

کرد حیران روی سوی قوم خویش

2

گفت دردا و دریغا کز غرض

آخرت با خواجگی کردم عوض

3

زآرزوی این جهان میسوختم

لاجرم آن یک بدین بفروختم

4

میروم امروز جانی سوخته

رفته دنیا و آخرت بفروخته

5

ای دل غافل دمی بیدار شو

چند بد مستی کنی هشیار شو

6

رفتگان اندر نخستین منزلند

منتظر بنشسته و مستعجلند

7

بیش ازین در بند خودشان می مدار

چندشان فرمائی آخر انتظار

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…