بخش 5 - الحكایة و التمثیل

Toggle stanza 1
بود مجنونی چو در کار آمدی
1

بود مجنونی چو در کار آمدی

گاه گاهی سوی بازار آمدی

2

در نظاره آمدی حیران و مست

چست بگرفتی سر بینی بدست

3

آن یکی گفتش که ای شوریده دین

بینی از بهر چه میگیری چنین

4

گفت این شمغندی بازاریان

سخت میدارد دماغم را زیان

5

گفت در بازار پس کم کن نشست

گفت نتوان چون مهم کاریم هست

6

جمله آن خواهم که بینم روز روز

مردم بازار را در تفت و سوز

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…