بخش 7 - الحكایة ‌و التمثیل

Toggle stanza 1
نازنین شوریده میشد ناگهی
1

نازنین شوریده میشد ناگهی

بود هم سرما و هم گل در رهی

2

آن یکی گفتش که گل بگرفت راه

خویش را بر خیز کفشی ژنده خواه

3

گفت چون پا را کنم کفشی طلب

خاصه اندر زیر میگیرند شب

4

تا که در شخص تو میماند دلت

هرگز آن دولت نیاید حاصلت

5

چون بجای دل رسی بی دل مدام

گردد این دولت ترا حاصل مدام

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…