Toggle stanza 1
اندیشهٔ عالمی مرا افتادست
1

اندیشهٔ عالمی مرا افتادست

هر جاکه فتد غمی مرا افتادست

2

چون خوش دارم دلت که تا جان دارم

تنها همه ماتمی مرا افتادست

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…