شمارهٔ 54
Toggle stanza 1عشق تو به هر دمم هزار افسون کرد
11
عشق تو به هر دمم هزار افسون کرد
تا عقل ز من برد و مرا مجنون کرد
22
من هرچه که داشتم ندادم از دست
اما همه او ز دست من بیرون کرد
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

