شمارهٔ 37
Toggle stanza 1کو کس که چو بوده گشت نابوده نشد
11
کو کس که چو بوده گشت نابوده نشد
وز آسِ سپهرِ سرنگون سوده نشد
22
بس کس که خیال چرخ پیمود و بسی
تا جمله فرو شدند و فرسوده نشد
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

