شمارهٔ 17
Toggle stanza 1عیسی چو شرابِ لطف در کامم ریخت
11
عیسی چو شرابِ لطف در کامم ریخت
بارانِ کمال بر در و بامم ریخت
22
چون جان و جهان زخویش کردم خالی
خضر آبِ حیات خواست در جامم ریخت
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

